حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ خراسان کی اعلیٰ کونسل کے سیکرٹری، حجت الاسلام والمسلمین فرزانہ نے رہبرِ شہید کی علمی، قرآنی اور انقلابی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ عمیق فقاہت، قرآنی معارف پر گہری دسترس، سیرتِ اہلِ بیتؑ کی دقیق معرفت اور اسلامی معاشرے کی برسوں کی کامیاب قیادت کے باعث عصرِ حاضر کی ایک منفرد اور ممتاز شخصیت تھے۔
انہوں نے بتایا کہ رہبرِ شہید سے ان کی شناسائی ۱۳۴۶ھ ش سے بھی پہلے کی ہے، تاہم ۱۳۴۷ھ ش میں فردوس کے زلزلے کے دوران یہ تعلق مزید مضبوط ہوا۔ بعد ازاں انہیں رہبرِ شہید کے خصوصی فکری و سیاسی دروس اور فقہی اسباق سے بھی استفادہ کا شرف حاصل رہا۔
انہوں نے انقلاب سے قبل کے ایام کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک موقع پر، جب وہ اوین جیل سے ملاقات کرکے واپس آئے تو رہبرِ شہید نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "کیا اپنے ہی گھر کی سیر کرنے گئے تھے؟" بعد ازاں رہائی کے بعد رہبرِ شہید ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: "جتنا مجھے اسلامی جمہوریہ کے قیام پر خوشی ہوئی، اتنی ہی آپ کی رہائی پر بھی ہوئی۔" ان کے بقول، یہ محبت اور وفاداری آج بھی ناقابلِ فراموش ہے۔
حجت الاسلام فرزانہ نے مزید کہا کہ مشہد میں انقلابی جدوجہد کی نمایاں شخصیات میں مرحوم آیت اللہ طبسی، شہید آیت اللہ ہاشمی نژاد اور رہبرِ شہید سرفہرست تھے، جو امام خمینیؒ کے وفادار رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کی قرآنی تفسیر اور نہج البلاغہ کے دروس نے ان کی سیاسی و انقلابی فکر کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا اور ان مجالس نے نوجوانوں اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد کو فکری طور پر بیدار کیا۔
مشہد میں رہبرِ شہید کا اسلوبِ تفسیر بے مثال تھا
حوزہ علمیہ خراسان کی اعلیٰ کونسل کے سیکرٹری، حجت الاسلام والمسلمین فرزانہ نے کہا کہ رہبرِ شہید اپنے زمانے ہی میں ممتاز مجتہد، گہری سیاسی بصیرت کے حامل اور معارفِ اسلامی و قرآنی کے ممتاز ماہر تھے۔ آئمۂ اہلِ بیتؑ کی سیرت پر ان کی تحقیق بھی نہایت عمیق تھی۔
انہوں نے کہا کہ مشہد میں رہبرِ شہید کا اندازِ تفسیر اپنی مثال آپ تھا۔ ابتدا میں ان کی تفسیرِ قرآن کی مجالس محدود افراد پر مشتمل تھیں، مگر بعد میں سینکڑوں طلبہ اور جامعات کے طلبہ ان میں شریک ہونے لگے، حتیٰ کہ مدرسہ میرزا جعفر کے باہر بھی لوگ بیٹھ کر درس سنتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساواک کے سخت ترین دور میں بھی رہبرِ شہید نہایت حکیمانہ انداز میں آیاتِ قرآن کی تفسیر کرتے اور انہی آیات کی روشنی میں معاشرے اور انقلابی قوتوں کی ذمہ داریوں کو واضح کرتے تھے، جس سے سامعین کی فکری اور عملی زندگی میں نمایاں تبدیلی آتی تھی۔
حجت الاسلام فرزانہ نے ایک یادگار واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں ایک مجلس کے دوران رہبرِ شہید نے سورۂ صف کی تفسیر پیش کی تو اختتام پر شہید آیت اللہ مطہری نے فرمایا: "رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله خامنهای قرآن کے ایک حقیقی ماہر ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید نے بارہا قید و بند اور جلاوطنی کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر کبھی جدوجہد سے دستبردار نہ ہوئے۔ وہ ہمیشہ امام خمینیؒ سے اپنی گہری وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: "میری فکر، امام کی فکر کے سمندر کا ایک قطرہ ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ شہید نوجوان صلاحیتوں کو پہچاننے، ان کی تربیت کرنے اور انہیں فکری انحراف سے بچانے میں غیرمعمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ امام خمینیؒ کے بعد انقلابی افراد کی تربیت کی ایسی مثال کم ہی ملتی ہے، اور شہید سپہ سالار قاسم سلیمانی بھی اسی مکتب کی تربیت یافتہ شخصیات میں سے تھے۔
حجت الاسلام فرزانہ نے کہا کہ رہبرِ شہید پوری زندگی روحِ مجاہدت سے سرشار رہے۔ ان کی شخصیت میں اعلیٰ درجے کی اسلام شناسی، گہری فقاہت، قرآنی تخصص، سیرتِ اہلِ بیتؑ پر منفرد تحقیق اور اسلامی معاشرے کی 37 سالہ کامیاب قیادت جیسی بے مثال خصوصیات یکجا تھیں۔
انہوں نے آخر میں زور دے کر کہا کہ اگر انقلابِ اسلامی کو اپنی اصل روح اور قوت کے ساتھ برقرار رکھنا ہے تو اسی فکر کو فروغ دینا ہوگا جس نے اس انقلاب کو جنم دیا۔ رہبرِ شہید کے افکار کی ترویج ہی انقلابِ اسلامی کے تسلسل کی سب سے اہم ضمانت ہے۔









آپ کا تبصرہ